شبیر نازش ۔۔۔ دو غزلیں

اسی پہ آنکھ ٹھہرتی ہے پیارا لگتا ہے
ہمیں جو دیکھ لے ہنس کے، ہمارا لگتا ہے

اسی کی بات سنے اور اسی کی بات کرے
ہمارے دل پہ اسی کا اِجارہ لگتا ہے

پھٹا لباس نہ دیکھ اس کی بات غور سے سن
مجھے وہ شخص محبت میں ہارا لگتا ہے

ادب میں عہدے نہیں‘ کام بولتا ہے میاں!
وہ ایک شخص اکیلے ادارہ لگتا ہے

جو شخص ڈوب رہا ہو شکستِ ذات کے بیچ
بھنور بھی دور سے اس کو کنارہ لگتا ہے

یہ شعر گوئی ہے یہ پارٹ ٹائم جاب نہیں
اور اس میں آدمی سارے کا سارا لگتا ہے

مَیں گہری نیند سے بیدار ہو گیا نازش
کسی نے خواب میں مجھ کو پکارا، لگتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔

ہماری آنکھ میں وحشت نہیں تو پھر کیا ہے
ہمیں یہ ہجر غنیمت نہیں تو پھر کیا ہے

دھڑک رہے ہیں بہم خوب صورتی سے جو ہم
ہمارے بیچ محبت نہیں تو پھر کیا ہے

یہ مسکرانا، ادائیں دکھانا، اٹھلانا
تری طرف سے سِفارت نہیں تو پھر کیا ہے

برنگِ اشک لہو آنکھ سے طلوع ہوا
اگر یہ دل سے بغاوت نہیں تو پھر کیا ہے

گزارنی ہے بہر حال سو گزاریں گے
جو زندگی میں سہولت نہیں تو پھر کیا ہے

ہمارا نام مٹانے پہ وہ لگے ہوئے ہیں
انھیں جو ہم سے عداوت نہیں تو پھر کیا ہے

ہمیں تمھاری ضرورت ہے دم بہ دم نازش!
تمھیں ہماری ضرورت نہیں تو پھر کیا ہے

Related posts

Leave a Comment